نئی دہلی،20جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی)کانگریس صدر راہل گاندھی نے فرانس کے ساتھ رافیل جنگی طیارہ سودا کے سلسلے میں وزیر دفاع نرملا سیتا رمن پر وزیر اعظم نریندر مودی کے دباو میں ملک سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا جسے وزیر دفاع نے پوری طرح غلط بتایا ۔
مسٹر گاندھی نے آج عدم اعتماد کی تحریک پر ہوئی بحث کے دوران کہا کہ محترمہ سیتا رمن نے پہلے کہا تھا کہ وہ فرانس کے ساتھ ہوئے سودے کے مطابق رافیل جنگی طیارہ کی قیمت بتائیں گی لیکن بعد انہوں نے یہ کہہ کر ایسا کرنے سے انکار کردیا کہ فرانس حکومت کے ساتھ رازداری برتنے کے اتفاق رائے کی وجہ سے ان کی قیمت نہیں بتاسکتیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی فرانس کے صدر سے بات ہوئی تھی اور فرانس کے صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس طرح کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور وہ یہ بات سب کو بتاسکتے ہیں۔ کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ محترمہ سیتا رمن نے وزیر اعظم کے دباو میں غلط معلومات دی ہے۔
مسٹر گاندھی کے الزام سے ناراض وزیر دفاع سیتا رمن نے اسی وقت اس معاملے پر صفائی دینے کی کوشش کی لیکن مسٹر گاندھی نے انہیں بولنے کا موقع دینے سے انکار کردیا۔کانگریس صدر کی تقریر ختم ہونے پر محترمہ سیتا رمن نے ان پر عائد الزامات کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ فرانسیسی صدر نے ایک ہندوستانی میڈیا گروپ سے انٹرویو میں اس سلسلے میں رازداری کے معاہدہ کا حوالہ دے کر کوئی بھی تفصیل بتانے سے انکار کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کی پارٹی کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں حکومت ہند اور فرانس کی حکومت کے درمیان 25جنوری 2008 کو ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں دفاعی سودے کی رازداری کا التزام بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان بین حکومتی معاہدہ کی دفعہ دس کے تحت اطلاعات اور اشیاء سے متعلق معلومات کے تحفظ کا التزام کیا گیا ہے اور اس پر اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے دستخط کئے تھے۔
انہو ں نے موجودہ دفاعی معاہدہ کی رازداری والے التزام کی نقل ایوان میں دکھائی اور کہا کہ مسٹر گاندھی اور فرانس کے صدر کے درمیان کیا بات چیت ہوئی ہے اس سلسلے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں کیوں کہ دونوں نے کیا باتیں کی یہ کوئی اور نہیں جان سکتا۔ محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے جو الزامات لگائے ہیں ان کا نہ تو کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت۔